Mohd Raees 11 May 2023 आलेख धार्मिक امام ذھبی 17683 0 Urdu :: پنجابی
مختصر سیرت و احوال امام ذھبی علیہ الرحمہ اپنے وقت کے امام، محقق محدث، فقیہ، عالم اسماء الرجال اور بہت بڑے مؤرخ تھے آپ کی ولادت دمشق میں 673 م میں ہوئی اور وفات 748 میں. آپ کی علمی عظمت و جلالت کو ایسی لا زوال حیثیت عطا ہوئی کی رہتی دنیا تک آپ کو یاد کیا جاتا رہے گا . امام ذھبی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب سیر الاعلام النبلاء میں مشرق سے لےکر مغرب تک کے علماء کبار، خلفاء، ملوک، امراء، وزراء، اطباء، محدثین، فقھاء، نحاة، شعراء، زھاد ، متکلمین وغیرہ کے احوال زندگی بیان فرمایا ہے ـــ آپ کی یہ کتاب ۱۸ جلدوں پہ مشتمل ، اور 35 طبقات پر منقسم ہے .. آپ نے اس کتاب میں 5964 شخصیات کی سیرت اور ان کی حیات پر روشنی ڈالی ہے ... اپنی اس کتاب کے دو جزء کو سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص کیا ہے ۱. قدریہ جہمیہ معتزلہ رافضی کی روایت قبول ہو گی یا نہیں؟ اور اس کے شروط وغیرہ علماء کرام کی آرا سے مزین فرمایا ہے ــــ پہلی جلد میں بہت ساری تعقیبات کا ذکر ہے جس میں سے ایک قارئین کے نظر ہے قال ابن عيينه ..غضب الله داء لا دواء له عقب الذهبي ... دواؤه كثير الاستغفار بالاسحار. والتوبة النصوح. ابن عیینہ علیہ الرحمہ نے فرمایا : اللہ کا غضب ایک ایسا مرض ہے جس کا کوئی علاج نہیں. امام ذھبی علیہ الرحمہ نے اس پر تعقیب کرتے ہوئے فرمایا: اللہ کے غضب کو دور کرنے کے لئے بہت سارے علاج ہیں اور اسکی دواء ہے اور وہ راتوں کو استغفار کرنا و توبہ نصوحہ کرنا ...